رہبر امت کنونشن.ایک تاثر
.۔۔ ارشاد حسین ناصر پاکستان میں عشاقان ولایت،فدائیان رہبر، شہادت کو سعادت سمجھنے والے متلاشیان شہادت جوانان امامیہ،فرزندان حسینی،شاگردان شہید ڈاکٹرنقوی،باتقوی جوانان،مخلصین ملت کا 55واں سالانہ تین روزہ مرکزی کنونشن روایتی جوش و جذبے اور مثالی انقلابی،روحانی ماحول کے ساتھ 18تا 20 ستمبر جامع امام صادق اسلام آباد میں منعقد ہوا ہے،پاکستان کے گوش و کنار سے جوانان کی بڑی تعداد شریک ہوئی،کنونشن کا سب سے اہم مرحلہ آخری روز انجام پاتا ہے جس میں نئے میر کارواں کا انتخاب و اعلان ہوتا ہے،جبکہ تینوں دن طے شدہ ایجنڈا جس میں تربیتی،تعلیمی،تنظیمی نشستوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے ،اگلے سیشن کیلئے انتخاب میں دو نام ہاءوس کے سامنے پیش کیے گئے جو سید امین شیرازی اور حیدر ٹقفی تھے،کثرت رائے سے سید امین شیرازی دوبارہ منتخب ہوگئے،مولانا شبیر بخاری نے نئے مرکزی صدر کا کا اعلان کیا جبکہ علامہ غلام عباس رئیسی نے نومنتخب مرکزی صدر سے حلف لیا۔،مرکزی صدر بینکنگ اینڈ فنانس کے طالبعلم ہیں ۔پہلے روز اسکاءوٹس سلامی کا پروگرام ہوا،جس میں سابق چیف اسکاءوٹ برادر صفدر بخاری معروف صحافی ،نادر بلوچ،نے گفتگو کی،رات کو ،شب شہداء کا پروگرام ہوا،اس محفل شہداء میں خانوادگان شہداء شریک ہوئے،سانحہ ترلائی اور یکم مارچ فدائیان رہبر شہداء کے خانوادگان خصوصی طور پہ شریک ہوئے،انہیں عزتوں سے نوازا گیا،اس نشست میں شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا،شہداء سے تجدید عہد کیا گیا،شہداء کے ترانے دلوں کو گرماتے رہے،عجیب ہے کہ گذشتہ برس کنونشن پہ شہید مقاومت سید حسن نصراللہ کا غم تازہ تھا،انہی کے نام پہ کنونشن تھا امسال تو رہبر معظم امام سید علی خامنہ ای کا زخم جدائی اشکوں کا سیلاب لایا ہے،ان کی شہادت کے اگلے روز یکم مارچ کو شعوری شہادت پیش کرنے والے خالص فدائیان رہبر بھی بلا شک بلند مرتبہ ہیں جو اس ولی خدا کے خون کے ذمہ داروں کے خلاف میدان میں نکلے تھے اور جانوں سے گذر گئے،سلام ہے ان فرزندان ملت کو اور ڈھیروں سلام۔ان کے ورثاء کو جو اس پہ مطمئن و افتخار محسوس کرتے ہیں،با شبہ کسی بھی تحریک کو اس کے شہداء کا خون منزل کے قریب کرنے اور دیگران کیلئے جذبہ ایثار کو بیدار کرنے کیساتھ متحرک و فعالیت کا باعث بنتا ہے،پاکستان میں ملت تشیع کے قیمتی ترین لوگوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے اسلامی و انقلابی جدوجہد کرنے والے راہیان کربلا کو تاریک راہوں میں روشن راستہ فراہم کیا ہے۔ رہبر امت کنونشن میں مختلف ماہرین،علماء اسکالرز کے لیکچرز و دروس جاری رہے،جبکہ دوسرے دن کا اہم پروگرام شہید مقاومت سید حسن نصراللہ کی برسی کے حوالے سے طے تھا جس میں علامہ امین شہیدی،مفتی گلزار نعیمی،سید ناصر شیرازی نے گفتگو کی جںکہ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری،لیاقت بلوچ کے نام بھی مقررین میں شامل تھے جو شاید ذاتی وجوہات کے باعث تشریف نہیں لاسکے۔اسی دوران مرکزی کونسل،مجلس نظارت کے اجلاس بھی جاری رہے۔جن میں مرکزی ودر کے انتخابی مراحل کو طے کیا گیا۔* سفید ریش آئی ایس اوامامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان،بلاشبہ جوانان امامیہ کی ملک گیر،منظم سب سے پرانی تنظیم ہے جس میں کالجز و یونیورسٹیز کے طلباء پاکستان کے چاروں صوبوں،گلگت بلتستان،آزاد کشمیر سے بڑی تعداد مرکزی رہبر امت کنونشن میں شریک تھے، البتہ کنونشن میں ہر سال تنظیم کے سینئر برادران،سابقین بھی ملک بھر سے شریک ہوتے ہیں،روایتی طور پہ ایک محفل دوستان ،سابقین نشست ہوتی ہے امسال بھی یہ محفل منعقد ہوئی جس میں ستر کے قریب سینئرز شریک تھے جبکہ مجموعی طور پہ ڈیڑھ سو تک سینئرز کنونشن میں شریک تھے،،سینئرز کی موجودگی سے ایک اور آئی ایس او نظر آثی ہے،جو سفید ریش امامیہ برادران پہ مشتمل ہوتی ہے ،بس سلام و دعا،تعارف،اپنے دور و زمانے سے آگاہی سے یہ سفید ریش آیی ایس او کی روایتی نشست علی رضا بھٹی بھائی نے رواتی طور پہ سجائی تھی،اس نشست کا اور تو کوئی فایدہ شاید نا ہو۔یہ بھی کافی ہے کہ اس عمر کے دوستوں کو سال بعد مل بیٹھنے اور احوال پرسی کا اجتماعی موقع میسر آیا۔مجلس وحدت مسلمین کے ایم این اے انجینئر حمید الحسن نے بھی اس محفل سابقین میں بطور ایک سابق شریک ہوکے خیالات جا اظہار کیا اور سابقین کو پاکستان کی عملی سیاست میں آکے کردار ادا کرنے کی ترغیب دلائی۔بہت سے سفید ریش برادران اپنے بچوں کیساتھ شریک تھے،مطلب اگلی نسل بھی فعال و نظام ڈے مربوط ہوگئی۔۔یہ کارواں ایسے ہی 55واں کنونشن منعقد کرنے میں کامیاب ہے،جہاں سیںئرز اس ماحول،حالات میں اتنی بڑی تعداد میں پرخلوص امامیہ طلباء کو دیکھ کے شاداں و فرحاں ہوتے ہیں، وہیں نئے برادران کے حوصلوں کو بھی اپنے سینیٹرز کو اپنے درمیان پا کے تقویت کا احساس ہوتا ہے یوں بزرگان و سینئرز کی محنتوں شہداء کی پر خلوص قربانیوں اور جہد مسلسل سے یہ کارواں۔ رواں دواں ہے۔۔بڑھتے رہیں یونہی قدم حی علی خیر العمل