پاراچنار،بارڈر،نا ختم ہونے والی مشکلاتسچ بات۔ارشاد حسین ناصر
کرم ایجنسی اب ڈسٹرکٹ کرم،کا صدر مقام پاراچنار ہے جس کی جغرافیائی اور حساس پوزیشن دیکھیں تو تین اطراف سے سرحد افغانستان سے ملتی ہے پاراچنار (ضلع کرم) جغرافیائی طور پر پاکستان کا وہ علاقہ ہے جو تین اطراف سے افغانستان کے صوبوں (ننگرہار، پکتیا، لغمان) سے گھرا ہوا ہے۔ یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ پاراچنار ایک شیعہ اکثریت کا علاقہ ہے جو ماضی میں بھی شدید فرقہ وارانہ اور قبائلی کشیدگی،جنگوں کا شکار رہا ہے۔جو ایک طویل تاریخ کے حامل ہیں، افغان طالبان اور ٹی ٹی پی (TTP) کی آمد یا سرحدی حملوں کی صورت میں یہاں مقامی سطح پر سیکیورٹی کے سنگین خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ اس وقت بھی پاک افغان سرحد پر شدید ترین کشیدگی ،سرحدی جھڑپیں جاری ہیں، فروری اور مارچ 2026 سے پاک افغان سرحد پر جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ستمبر 2026 میں بھی کرم اور دیگر سرحدی علاقوں پر افغان عبوری حکومت اور ٹی ٹی پی کی طرف سے کی جانے والی فائرنگ کے جواب میں پاک فوج اور ایف سی نے شدید جوابی کارروائیاں کی ہیں۔ان جھڑپوں اور گولہ باری،فائرنگ کا ڈائریکٹ اثر اہلیان پاراچنار پہ پڑتا ہے،پاڑہ جمکنی،سنٹرل کرم کے بہت سے علاقے طالبان کی آماجگاہ اور محفوظ ٹھکانے بن چکے ہیں جہاں افغانستان سے طالبان آکر نا فقط ٹھہرتے ہیں بلکہ پاکستانی فورسز،مقامی شیعہ آبادیوں پہ بھی حملے کرتے ہیں جن میں سنائپر گنز استعمال کی جاتی ہیں پاکستان کی سات قبائلی ایجنسیز میں کرم ایجنسی بالخصوص اپر کرم جو شیعہ اکثریتی علاقہ ہے فورسز کیلئے محفوظ ترین رہا ہے،شیعہ آبادی نے خود پہ ظلم،زیادتی،تجاوز تعصب روا رکھے جانے کے باوجود کبھی ہتھیار نہیں اٹھائے جبکہ دوسری جانب اگر کسی شخصی مجرم کو بھی فورسز نے پکڑنے کی کوشش کی تو مقامی آبادی ہتھیار بند ہو کے سامنے آجاتی ہے۔اس وقت جب پاک افغان سرحدی تنازعات اور ان کے نتیجے میں جھڑپیں عروج پہ ہیں پاراچنار کے غیور،وطن کے سرفروش مکمل طور پہ فورسز کا ساتھ دے رہے ہیں،اور اپنے ملک و علاقے کا تحفظ کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ کے پی کے کے بہت سے سرحدی علاقوں کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان،ٹانک،بنوں،جیسے شہری علاقوں میں طالبان کی عملداری دیکھی جا رہی ہے جو روز بروز بڑھ رہی ہے ان علاقوں میں طالبان کھلے عام گشت کرتے لوگوں کو تنگ کرتے،جس کو چاہیں اٹھا کے ساتھ لے جاتے ہیں جب شہری علاقوں کے یہ حالات ہیں تو سرحدی ایریاز،بارڈرز پہ دیہاتوں کے حالات بارے تصور کیا جا سکتا ہے ،اس حوالے سے اپر کرم کے اہل تشیع طالبان کا راستہ نا روکیں تو ملک کا انتہائی حساس و اہم علاقہ دشمن کے قبضے میں جانے کا شدید خطرہ موجود ہے،اس کی بنیادی وجہ 1980ء سویت یونین کے خلاف امریکی جہاد ہے جس نے یہاں کی معاشرت تبدیل کر دی اور فرقہ واریت،دہشت گردی،تخریب کاری،قتل و غارت،لوٹ مار،اغواء برائے تاوان،اجرتی جہاد کو فروغ دیا ہے۔اس اجرتی جہاد کے نتیجہ میں آج یہ سارا خطہ آگ و خون اور دہشت و وحشت میں تبدیل ہو چکا ہے،جبکہ اس میں حکومتوں،جماعتوں اور ذمہ دار اداروں کی کوتاہیاں،مفادات اور ترجیحات نے بھی ملک کی بنیادوں کو کمزور اور دہشت گردوں،اجرتی قاتلوں و نام نہاد جہادیوں کو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے مواقع فراہم کیے ہیں۔وطن کیساتھ اس قدر محبت،بے پناہ قربانیوں اور فورسز پہ اعتماد کے باوجود اپل پاراچنار کے بنیادی مسائیل و مشکلات حل ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔آئے روز فرقہ وارانہ بنیادوں پہ دہشت گردی،مسافروں پہ حملوں ،راستوں کی بندش،اسپتال میں سہولیات کی عدم دستیابی،اور اب مختلف ایریاز میں تسلسل سے بارودی سرنگ دھماکوں کی و جہ سے خوف و دہشت کی فضا میں سانس لیتے کرم کے لوگ زندگی کے شب و روز گذارنے پہ مجبور ہیں۔یوں تو پورے پاکستان کے عوام شدید مہنگائی اور مشکلات میں جینے اور بعض خود کشیاں کرنے پہ مجبور ہیں، مگر پاراچنار میں مہنگائی کا لیول دیگر ملک سے کہیں بلند ہے،جبکہ آمدن کے زرائع نا ہونے کے برابر ہیں،وہ خانوادے جن کا کوئی فرد بیرون ملک آسٹریلیا جیسے ملک میں موجود ہے ان کیلئے شاید مشکل نا ہو مگر عام آبادی شدید ترین مشکل حالات سے دوچار ہے،ڈسٹرکٹ اسپتال میں سہولیات کی عدم دستیابی و مطلوبہ معیار نا ہونے کے باعث پرائیویٹ اسپتالوں میں لوٹ مار کا بازار گرم ہے،جب روڈ کی بندش ہوتی ہے تو پٹرول،ادویات ،خوراک کی شدید قلت پیدا ہوجاتی ہے،من مانے نرخ وصول کیے جاتے ہیں،یہاں بجلی کی ترسیل بمشکل تین گھنٹے ہے جس سے بھی لوگوں کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔کے پی کے کے موجودہ حکمرانوں کے پاس اپنے صوبے اور لوگوں کی مشکلات و مسائل کے حل کا واحد نسخہ پارٹی کے بانی کی رہائی ہے لہذا اس فارمولا کو لاگو کیا گیا ہے،دہشت گردی،طالبنائزیشن،خود کش حملے،مرکز سے محاذ آرائی میں فورسز کے پست حوصلوں سے صوبائی حکومت کو کچھ فرق نہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی جادو کی چھڑی بانی چیئرمین کی رہائی ہے،وہ رہا ہونگے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔پتا نہیں اس وقت تک کچھ باقی بچے گا یا نہیں۔۔