شہید بزبان شہید
ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید کے قائد شہید کے بارے تاریخی اظہارات
بسم رب الشہداء والصدیقین
انسان کے لئے کسی چیز کے بارے میں کوئی معیار مقرر کرنا شاید مشکل ہوتا ہے، لہٰذا وہ کسی معیار کو سمجھنے اور استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ میں یہ کہوں گا کہ ہمارے لئے اسلام کو سمجھنا اتنا آسان نہیں ہے، اس کو سمجھنے کے لئے باقر الصدر ؒ کا وہ قول یاد آتا ہے کہ ’’آپ امام خمینی ؒ کی ذات میں اس طرح سے ضم ہو جائیں جس طرح سے وہ اسلام میں ضم ہو چکے ہیں‘‘ تو اب ہمارے لئے بات آسان ہو گئی ہے کہ جو کچھ امام خمینی ؒ ہیں، وہ اسلام میں ضم ہو گئے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ آپ امام خمینی میں ضم ہو جائیں، میں سمجھتا ہوں ہم نے اس ملک کے اندر جن لوگوں کی زندگیاں مکمل ہوتے ہوئے دیکھی ہیں، اپنی اس زندگی میں ان میں سے ایک شخصیت جس کا نام بڑے منفرد اور نمایاں انداز میں لیا جا سکتا ہے جو امام خمینی ؒ کی ذات میں کھو گئے تھے، ضم ہو گئے تھے وہ شہید عارف الحسینیؒ تھے۔
ایک تو یہ پہلو ہے جس کو سمجھنے میں بہت وقت لگتا ہے ۔دوسری بات جو مجھے کرنی ہے وہ یہ ہے کہ ابھی تک ہمیں شہید حسینی ؒ کی potentials(پوشیدہ صلاحیتوں)کے متعلق صحیح آگاہی حاصل نہیں ہوئی۔
ہمارے دوست قم سے خصوصی طور پر اس کام کے لئے آئے ہیں کہ شہید حسینیؒ کے آثار جمع کئے جائیں۔ اب بظاہر کسی شخص کے بارے میں معلومات یکجا کرنا یا علم حاصل کرنے کو لوگ عموماً ایک عقیدتی attachment(لگاؤ) سمجھتے ہیں، جیسے اس کو ایک جذباتی کیفیت یا شخصیت پرستی و غیرہ کہتے ہیں۔ بہر حال خدا کا شکر ہے کہ ہم یہ کام اسلام کے عین حکم کے مطابق انجام دے رہے ہیں کیونکہ امام خمینی ؒ نے شہید حسینی ؒ کے چہلم کی مناسبت سے جو تعزیت نامہ بھیجا تھا اس میں واضح طور پر یہ جملہ موجود ہے کہ میں آپ کو تاکید کرتا ہوں کہ آپ شہید حسینی ؒ کے آثار کو جمع کریں اور ان کو سمجھنے کی کوشش کریں، یہ ایک حکم ہے۔ہماری نظروں میں چونکہ امام خمینی ؒ کی ذات اسلام سے جدا نہیں ہے۔یہ ایک بہت بڑا aim اورmotto ہے۔تیسری بات جو آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں اصل میں آدمی کا اپنا کام ہوتا ہے، (potential bases)مخفی صلاحیتوں کی بنیادوں کو سمجھنا !
جبکہ امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ نے واضح طور پر گورباچوف کو اپنے خط میں فرمایا ہے کہ ایسا کرنا آپ کے بس میں نہیں ہے کہ آپ اسلام کو درک کریں، یعنی آپ اسلام کو پڑھ سکتے ہیں لیکن اسے درک کریں کہ اس میں کیا چیز ہے یہ آسان کام نہیں ہے۔لہٰذا بہتر یہی ہے کہ آپ چند دن کے لئے چار آدمیوں کو قم بھیجیں وہ یہاں کے ماحول کے اندر رہیں شاید ان میں اسلام کو سمجھنے کی استطاعت پیدا ہو، یعنی اس کے لئے استطاعت شرط ہے!
اس پر میں کہوں گا کہ سب کی بات تو نہیں کرتے، بہرحال اکثر تو ہمارے اندر استطاعت ہی نہیں ہے۔خصوصاً ایک شہید اور پھر ایک شہید عالم دین کے مقام کو سمجھنے کی ۔ فی الحال آپ یہ سمجھیں کہ شہید حسینی ؒ جس صف میں کھڑے ہیں ہم اس کو صحیح درک نہیں کر سکے۔ اگر واقعی تھوڑی بہت سمجھ اور ادراک ہو تو امام خمینی ؒ ایک محفل کانام ہے جس میں دس پندرہ ستارے ہیں، جن میں شہید مطہری ؒ نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔یہ بہشتی ؒ، شہید جواد باہنرؒ، شہید باقر الصدرؒ ،شہید راغب لبنانی ؒ،مہدی الحکیم ؒجیسے ستاروں کی محفل تھی جس کا شہید حسینی ؒ بھی ایک حصہ تھے۔وہ ہمارے معاشرے کاحصہ نہیں تھے، ہمارے معاشرے کا در حقیقت وہ حصہ نہیں تھے۔ آپ شہید حسینی ؒ کے خطابات کو سنئیے ان کی گفتگو سنئیے،ہمارے معاشرے کے ساتھ قطعاً آپ کو ان کی مماثلت اور مشابہت نہیں ملے گی۔
ان کو درک کرنے کے لئے ہمارے اندر پہلے استطاعت پیدا ہونی چاہئے۔ آخری بات بطور ایک شیعہ کے یہ کہوںگا کہ ہم نے اس ملک میں تین مراحل طے کئے ہیں، جب پاکستان بنا تھا اس وقت یا تو ساری تنظیمیں غیر منظم تھیں یا سرے سے نہیں تھیں، تو اس طرح جو پہلا مرحلہ تھا وہ شیعہ مطالبات کے حوالے سے چھوٹی چھوٹی تنظیموں کاتھا جس کو مرحوم دہلوی صاحب کے دور میں ملک گیر حیثیت حاصل ہوئی۔ یہ واضح طور پر شیعہ مطالبات کی حد تک تھا۔ اس کے بعد مفتی جعفر حسین مرحوم اعلی اللہ مقامہ جو واقعاًاس زمانے کے ابوذر تھے، ان کا مقام بھی اس معاشرے میں کسی سے کم نہیں واقعاًزمانے کے ابوذر تھے، انہوں نے اس سلسلے میں ایک قدم اور آگے بڑھایا اور شیعیت کو ملک گیر کیا۔ انہوں نے اس تنظیم کو پورے ملک میں پھیلا دیا اور دوسرا یہ کہ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں اخبار جنگ کوایک نہایت رہنما اور سیاسی انٹرویودیا۔ یہ انٹرویو ان کی علالت کے دوران ان کے گھر میں لیا گیا تھا۔ یہ ان کا آخری انٹرویو تھا جو ہمارے لئے ان کی ایک یادگار دستاویز بن گیا ۔ یہ شائع شدہ مواد کی صورت میں موجود ہے۔اس میں انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ اس ملک کے اندر ہمارا ایک سیاسی رخ بھی ہے لیکن انہیںاس کے بعد وقت نہ ملا کہ وہ اپنے اس قول کو عملی جامہ پہنا سکیں۔
شہید حسینی ؒ کی یہ خوش قسمتی ہے اور ان کی وجہ سے ہمارے لئے یہ باعثِ سعادت و خوش بختی تھا کہ شہید نے شعوری طور پر انقلابِ اسلامی کو پاکستان میں متعارف کروایا۔ہم نے جذباتی طور پر اور انہوں نے شعوری طور پر۔ (کسی کا یہ جملہ استعمال کرتا ہوں)شہید حسینی ؒ کی تعریف کرتے ہوئے اس نے یہاں یہ جملہ کہا ہے کہ انہوں نے آئینے سے بھی زیادہ شفاف انداز میں یہاں انقلاب کوreflect (منعکس)کیاہے، آئینے سے بھی زیادہ صاف انداز میں، کیونکہ آئینہ ہو بہو وہی کچھ منعکس کرتا ہے لیکن وہ کہتے ہیں نہیں نہیں آئینے سے بھی زیادہ صاف انداز میں۔ اتنی تشریح کے ساتھ کہ شیشہ بھی اتنی تشریح نہیں کر سکتا۔ دوسرے مرحلے میں شہید حسینیؒ نے قیادت کو سنبھالا، اس کاروان کے سالار بنے۔ انہوں نے ایک بہت بڑا مظاہرہ مینارِ پاکستان میں کیا اور یہ اعلان کر دیا کہ پاکستان کے اندر ہمیں دخل ہے، پاکستان کے تعلیمی مسائل، پاکستان کے دفاعی مسائل، پاکستان کی خارجہ پالیسی، پاکستان کی ثقافت، غرض پاکستان کے ہر معاملے کے اندر ہمیں واضح طور پر دخل ہے، ہم کہنا چاہتے ہیں کہ یہ ایک بہت بڑا قدم ہے اور نیا قدم ہے جو شہید نے اٹھایا اور اب ماشاء اللہ یہ کارواں آگے چل رہا ہے۔میں یہ دوستوں کو کہتا ہوں اور احباب کویہی پیغام دیتا ہوں کہ بہت مشکل ہوتا ہے کسی نئی چیز کو سمجھنا اور نئے کام کرنا۔ اگر آپ نیا کام کر سکیں تو خوب ورنہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے شہید حسینی ؒ کو سمجھنے کی کوشش کریں، یہ کافی ہے اپنی زندگیوں کو اور آنے والی نسلوں کی زندگیوں کو راہِ راست پر لانے کے لئے۔
انٹرویو شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی رضوان اللہ تعالی علیہ