قائد شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی کا معروف میگزین زنجیر کو تاریخی انٹرویو
علامہ احسان الٰہی ظہیر کو ہم نے نہیں مروایادو راستےانتخاب یا انقلابقائد شہید علامہ سید عارف حسین الحسینیؒ کا ایک تاریخی انٹرویوملک کے معروف میگزین ؛زنجیر؛ نے اکتوبر 1987ء کے شمارے میں قائد شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی سےایک تفصیلی انٹرویو لے کے شائع کیا ،جسے من و عن شائع کیا جا رہاہے،اس انٹرویو میں شہید قائد نے بڑی تفصیل کیساتھ ہر قسم کے سوالات کے جوابات دیئے ہیںاس انٹرویو کو زنجیر کے نمائندہ جناب اکرم شیخ نے لیا،یاد رہے کہ زنجیر میگزین اس دور میں جب ضیا برسر اقدار تھا اور پریس پہ سخت پابندیاں بھی تھیں ایک معروف میگزین تھا ،یہ دور اخبارات اور مجلوں کا دور تھا،اس وقت انٹرنیٹ،سوشل میڈیا،موبائل گونز نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی تھی لہذا میگزینز ،اخبارات کی اہمیت ہوتی تھی،نئی نسل کیلئے یہ انٹرویو شہید کے سیاسی ،سماجی افکار سمجھنےے اور ان کی روشنی میں قدم آگے بڑھانے میں بہت معاون و مددگار رہیگا۔لیجئے زنجیر کے سوالات اور شہید قائد کے جواباتس: تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے قیام کے اغراض و مقاصد کیا ہیں؟ج: جب پاکستان وجود میں آیا تو اس کے بعد شیعہ برادری نے یہ احساس کیا کہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہونا چاہئیے جس سے اہلِ تشیع کے حقوق کے لیے آواز بلند کی جا سکے۔ لہٰذا تحفظ حقوق شیعہ کے نام سے ایک پلیٹ فارم بنایا گیا جس نے اپنے وقت میں قابل قدر خدمات سرانجام دیں۔ بعد میں شیعہ مطالبات کمیٹی کے نام سے ایک پلیٹ فارم بنا جس سے شیعوں کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رہی لیکن جب موجودہ مارشل لاء حکومت نے یہ احساس کیا کہ پاکستان کے عوام مسلمان ہیں اور اسلام کے احساسات و جذبات رکھتے ہیں تو انہوں نے پاکستان کے مسلمانوں کو خاموش کرنے کے لیے اسلام کا نعرہ لگایا بعد میں انہوں نے اسلام کے نام پر ایک خاص فقہ کا اعلان کیا۔س: وہ فقہ کون سی ہے؟ج: فقہ حنفی کا؛ طبعی طور پر اہل تشیع کی طرف سے ایکشن ہوا۔ پاکستان کے تمام علاقوں سے اہل تشیع مرکز میں جمع ہوئے اور وہاں بھرپور کنونشن منعقد ہوا جس میں مرحوم مفتی جعفر حسین کو قائد چنا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے اہل تشیع کے لیے خصوصاً فقہ جعفریہ کے حوالے سے جدوجہد کی۔ اس زمانے میں اہلِ تشیع کا مطالبہ یہ تھا کہ اگر پاکستان میں اسلامی نظام نافذ ہونا ہے۔ اولاًتو اس بارے میں ہمیں یقین ہے کہ حکومت مخلص نہیں ہے حکومت اسلام کے نام کو استعمال کر رہی ہے بہرحال اگر پھر بھی حکومت اسلامی نظام نافذ کرنا چاہتی ہے تو اگر حنفی بھائیوں کے لیے فقہ حنفی نافذ کرنا ہے تو اہل تشیع کے لیے فقہ اہل بیت اور فقہ جعفریہ نافذ ہونی چاہئیے۔ مفتی جعفر حسین مرحوم کی کوششوں سے جو کنونشن منعقد ہوا اس کی روشنی میں حکومت اور شیعوں کے درمیان ۶ جولائی ۱۹۸۰ء کو ایک معاہدہ طے پایا جس میں حکومت نے معاہدہ کیا تھا کہ جو قوانین بن چکے ہیں اور ان میں فقہ جعفریہ کو نظر انداز کیا گیا ہے ان میں ترامیم کی جائیں گی بلکہ آئندہ بھی جو قوانین بننے والے ہیں ان میں بھی اہلِ تشیع کے لیے فقہ جعفریہ کا خیال رکھا جائے گا۔ انہوں نے صرف زکوۃٰ کی حد تک اس معاہدہ پر عمل درآمد کیا لیکن بعد میں انہوں نے اس معاہدہ کی مخالفت کی اور اب تک اس معاہدے پر عمل نہیں کیا۔ مفتی جعفر حسین جب اللہ کو پیارے ہو گئے تو اس کے بعد یہ ذمہ داری مجھے دی گئی۔ اس کے لیے مرکزی کونسل اور مجلس عاملہ جو دوبا اختیار ادارے ہیں ان کا بعد میں اجلاس ہوا۔ لہٰذا دس فروری ۱۹۸۴ء کو یہ ذمہ داری مجھے سونپ دی گئی اگرچہ ہمارے آئین میں اغراض و مقاصد پہلے سے واضح ہیں لیکن ہم نے جب یہ ذمہ داری قبول کی تو یہ احساس کیا کہ ہم جہاں شیعہ ہیں وہاں مسلمان بھی ہیں اور پاکستان میں رہنے والے پاکستانی بھی ہیں۔ ہمیں شیعہ کے حوالے سے شیعہ حقوق کے لیے جدوجہد کرنی چاہئیے اور مسلمان ہونے کے حوالے سے اور اسلامی پیکر کا ایک جزو ہونے کے حوالے سے اتحاد بین المسلمین کے لیے بھی عندیہ دینا چاہئیے اور بین الاقوامی سطح پر بھی ہم مسلمانوں کے مسائل سے بھی الگ تھلگ نہیں رہ سکتے اور پاکستانی شہری کی حیثیت سے ہم پاکستان کے مسائل خواہ وہ اجتماعی ہوں، سیاسی ہوں یا جس قسم کے بھی ہوں ان سے ہم علیحدہ نہیں رہ سکتے۔ ہم نے مفتی جعفر حسین کے شروع کئے ہوئے کام کو ذرا وسعت دے دی اور تحریک کو صرف شیعہ مطالبات تک محدود نہیں رکھا بلکہ بالاتر ہو کر بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کے مسائل ہوں یا ملکی مسائل ان میں بھرپور حصہ کا ہم نے اظہار کیا ہے اور اس کے ساتھ ہم نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ فرقہ واریت پر مبنی تحریک نہیں ہے بلکہ ہم فرقہ واریت کو ملک کے لیے مضر سمجھتے ہیں جہاں ہم قومیت کےمسئلے کو رد کرتے ہیں اسی طرح فرقہ واریت بھی ملک کے لیے مہلک ہے۔س: اقلیتی فقہ کو اکثریتی فقہ پر کیسے نافذ کیا جائے گا؟ج: ہم نے اپنے منشور میں اس طرف واضح اشارہ کیا ہے اولاً یہ کہ مسلمانوں میں اخلاقی مسائل ہیں وہ کچھ زیادہ نہیں۔ بنیادی مسائل پر مسلمانوں کا اتفاق ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے درمیان جو مسائل متفق ہیں ان کو پبلک لاء کا رنگ دیا جائے اور جن مسائل پر اتفاق نہ ہو ان پر ہر مکتب فکر کو اپنے مکتب فکر کے مطابق عمل کرنے کی اجازت دی جائے۔س: موجودہ نظام حکومت میں تحریک کی کامیابی کے امکانات ہیں؟ج: موجودہ حکومت کے متعلق تو ہم نے پہلے کہہ دیا ہے کہ جب ضیاء الحق نے طاقت کے ذریعے اپنے آپ کو ملک پہ پانچ سال کے لیے مسلط کر دیا۔ جب بنیاد غلط ہو جائے تو اس کے بعد ان کے جتنے بھی کام ہوں گے وہ بھی غلط ہوں گے پھر ضیاء الحق نے یہ انتخابات کروائے پھر انہوں نے جس طریقے سے یہ حکومت قائم کی ہے اس کو ہم غیر آئینی سمجھتے ہیں خصوصاً اس حوالے سے کہ ضیاء الحق صدر بھی ہے اور چیف آف سٹاف بھی۔ یہ ہم نہیں سمجھتے کہ کس طرح ممکن ہے لیکن انہوں نے اس کو ممکن بنایا ہوا ہے۔ تحریک کے اغراض و مقاصد میں ملک میں اسلامی نظام کو صحیح طور پر نافذ کرنا ہے۔ یہ جو مغربی نظام اور تہذیب ہے اس کے خلاف جدوجہد کرنا ہے اور خصوصاً ملک کو امریکی تسلط سے آزاد کرانا اور جمہوریت کے لیے جدوجہد کرنا تحریک کے اس وقت مدنظر ہے ہمیں اس سے غرض نہیں کہ یہ حکومت کیا ہے۔ ہماری نظر میں جو کام ہے اس کے لیے ہم اپنے طریقے سے کام کر رہے ہیں۔ خواہ وہ ملک میں اسلامی نظام کے لیے کام ہو یا بین الاقوامی سامراج کے خلاف جدوجہد ہو یا اتحاد بین المسلمین کے لیے کام کرنا ہو یا جمہوریت پسند جماعتوں کے ساتھ تعاون کرنا ہو اس کے لیے ہم اپنے پلیٹ فارم سے جدوجہد کر رہے ہیں۔سـ: تحریک آئندہ انتخابات میں اپنے نمائندے کھڑا کرے گی؟ج: اس سلسلے میں ہم نے اعلان تو کیا ہے کہ ہم پاکستان کے سیاسی اور اجتماعی مسائل سے علیحدہ نہیں ہو سکتے۔ اب سوال صرف حکمت عملی کا ہے کہ تحریک سیاسی اور ملکی مسائل میں کسی طریقے سے حصہ لیتی ہے، ہمارے سامنے دو راستے ہیں۔ ایک انتخابات کا اور دوسرا انقلاب کا۔ مرکزی کونسل کے آئندہ اجلاس میں اس حکمت عملی اور لائحہ عمل پر منشور کے حوالے سے بات کی جائے گی اور اس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ ہمیں ملک کے سیاسی مسائل میں کس طرح حصہ لینا چاہئیے۔س: آپ نے انتخاب اور انقلاب کی بات کی ہے، آپ فرمائیں کہ انقلاب کی کونسی شکل آپ کے ذہن میں ہے؟ج: ہمارا انقلاب اسلامی اصولوں کے مطابق ہوگا۔ انقلاب میں ہم وہ طریقہ اختیار کریں گے جن کی اسلامی اصول اور طریقے اجازت دیتے ہیں۔س: اگر تحریک انقلاب کے لیے اپنے لوگوں کو سڑک پر لاتی ہے تو پھر دوسرے لوگ بھی بالمقابل آگئے تو اس کے نتائج کیا ہوں گے؟ج: ہم جب انقلاب کی بات کرتے ہیں تو آپ کو معلوم ہونا چاہئیے کہ انقلاب کے لیے مراحل ہوتے ہیں جن میں پہلا مرحلہ لوگوں کو فکری طور پر تیار کرنا ہوتا ہے اور لوگوں کو تربیت دینا ہوتا ہے اس سلسلے میں ہم جو بات کریں گے وہ صرف اہل تشیع کے حوالے سے نہیں ہوگی بلکہ دوسرے فرقے کے لوگوں سے جو اسلامی نظام کے حوالے سے کام کرنا چاہئیے ہیں ان کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے انہیں خود سے متفق کریں گے پھر لوگوں کو تعلیم دی جائے گی۔ ابتدائی مراحل میں سڑکوں پر آنا کبھی ہمارے مدِ نظر نہیں رہا۔س: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ انتخابات ۱۹۹۰ء سے پہلے ممکن ہو سکتے ہیں؟ج: حکومت کے پہلے و عدوں کے مطابق ہم یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت پھر اپنے وعدے سے وفا نہیں کرے گی اور انتخابات ۱۹۹۰ء میں بھی نہیں ہوں گے لیکن اگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے ان پر دباؤ آگیا تو ہو سکتا ہے کہ ۱۹۹۰ء سے پہلے یا ۱۹۹۰ء میں یہ انتخابات منعقد کروائیں۔س: آل پارٹیز کانفرنس کے سامنے آنے والے انتشار سے کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سیاست دان حکومت پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟ج: جو آل پارٹیز کانفرنس مولانا فضل الرحمٰن نے نیک نیتی سے بلائی تھی ہمیں ان کی نیت پر بدگمانی نہیں کرنی چاہئیے۔ دوسرا یہ کہ کانفرنس کس حد تک کامیاب ہو گی واضح ہے کہ جو بھی کانفرنس ہو اس کے نتائج فوری طور پر سامنے نہیں آتے ہو سکتا ہے اس کے نتائج دورس ہوں جس طرح بعض لوگ کہتے ہیـں کہ یہ کانفرنس ناکام رہی ہم ایسا نہیں سمجھتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ گو ممکنہ توقعات اس سے پوری نہیں ہوئیں لیکن مجموعی طور پر یہ کانفرنس کامیاب رہی ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ ہم سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں سے خواہش کرتے ہیں کہ وہ چھوٹے چھوٹے مسائل اور باتوں کو شہرت نہ دیں جس کے نتیجے میں لوگوں کو انگلیاں اٹھانےکا موقع ملتا ہے کیونکہ اس طرح آئندہ کوئی جرأت نہیں کرے گا کہ ایسی کانفرنس منعقد ہو۔ باقی حکومت پر دباؤ ڈالنے والی جہاں تک بات ہے تو ہمارے خیال میں اگر سیاست دانوں میں وقتی طور پر کوئی بدگمانی پیدا ہو جائے تو انہیں فوری طور پر دور کرلینی چاہئیے۔ ہم یہ نہیں سمجھتے کہ دور نہیں ہو سکتیں۔ ان شاء اللہ یہ جلد ختم ہو جائیں گی۔ یہ لوگ دوبارہ مشترکہ ہدف کی طرف یعنی ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے متحد ہوں گے اور پھر ان شاء اللہ یہ حکومت پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب ہوں گے۔س: بعض لوگوں کا خیال ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس ایم۔آر۔ڈی کو توڑنے کی سازش تھی۔ آپ کا کیا خیال ہے؟ج: جیسا کہ پہلے ہم نے کہا کسی بھی چیز کے منفی پہلو کو ہی سامنے نہیں رکھنا چاہئیے۔ دوسرا یہ کہ اگر کوئی اس قسم کی باتیں کرتے ہیں تو اگر ان کے پاس کوئی دلیل ہے اور اگر نہیں تو صرف ان کے مفروضوں اور احتمالات کی بناء پر اس قسم کے بیانات مناسب نہیں۔ ہمارے پاس اس بات کا ثبوت یا شواہد نہیں کہ آل پارٹیز کانفرنس کا مقصد ایم۔آر۔ڈی کو توڑنا تھا۔س: بعض لوگوں کا خیال یہ تھا کہ ایم۔آر۔ڈی چونکہ ناکام ہو گئی تھی اس لیے آل پارٹیز کانفرنس بلائی گئی؟ج: مولانا فضل الرحمٰن نے جو کانفرنس بلائی تھی ہم سمجھتے ہیں کہ ان کی نیت صاف تھی ان کی کوئی بدنیتی نہیں تھی۔س: ایم۔آر۔ڈی کے دو واضح گروپوں میں تقسیم ہونے کے بعد تحریک نفاذِ فقہ جعفریہ کس گروپ کا ساتھ دے گی؟ج: ہم پہلے ایم۔آر۔ڈی میں نہیں تھے اور اب بھی ہم دونوں فریقوں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ آپس میں متحد اور متفق ہو جائیں کیونکہ انتشار اور نفاق سے بنیادی مقصد کو نقصان پہنچے گا۔س: آئندہ انتخابات میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کس جماعت سے الحاق کرے گی؟ج: جب تک مرکزی کونسل میں لائحہ عمل اور حکمت عملی کا فیصلہ نہیں ہوتا ہم انتخاب کے حوالے سے کوئی بات نہیں کر سکتےاگر فیصلہ ہو گیا اس پر عمل کیا جائے گا۔س: انتخابات کبھی تو ہوں گے؟ج: یقیناً ہوں گے۔ہم جو بھی کام کریں گے مرکزی کونسل کے فیصلے کے بعد کریں گے۔س: شریعت بل کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ج: شریعت بل پر ہمیں دو قسم کے اعتراضات ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس شریعت بل کا جو مقدمہ انہوں نے بنایا ہے اس سے مارشل لاء کی حکومت کو تقویت ملتی ہے۔ یہ صحیح نہیں ہے۔ جنرل ضیاء نے جو کام اور فیصلے کیے ہیں وہ ٹھیک نہیں ہیں۔ مارشل لاء بھی اپنی بنیاد سے ہی غلط تھا۔ دوسرا یہ کہ شریعت بل میں اہل تشیع کو نظر انداز کیا گیا ہے اسی لیے ہم نےترامیم و تجاویز پیش کی تھیں کہ اگر شریعت بل والے شریعت کےحوالے سے مخلص ہیں تو ان کو سب مکاتب فکر کو اعتماد میں لینا چاہیئےاور اگر انہوں نے اہل تشیع کی پیش کردہ ترامیم کو ملحوظ رکھا تو ہم تعاون کریں گے لین اگر انہوں نے ہماری تجاویز کو نظر انداز کیا تو ہم بھرپور مخالفت کریں گے۔س: اسلام نافذ ہونے کے بعد عدم اعتماد کا طریقہ کیا ہوگا؟ج: اگر صحیح معنوں میں اسلام نافذ کیا جائے تو اسلامی نظام میں جمہوریت کاملاً ہوتی ہے۔ اس کی ایک مثال ایران کی ہے وہاں جب سے اسلامی نظام نافذ ہوا ہے جنگ بھی جاری ہے ان کے صدر اور وزیراعظم بھی دھماکوں میں شہید ہو چکے ہیں لیکن کبھی بھی انہوں نے یہ بہانہ نہیں بنایا کہ ملک میں انتشار ہے اس لیے انتخابات نہیں ہونا چاہئیں۔ اس کے بالمقابل آئین کے مطابق صدارتی انتخابات بھی بروقت ہوتے ہیں اور پارلیمنٹ کے انتخابات بھی ہوتے ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر پاکستان میں صحیح طور پر اسلامی نظام نافذ ہو گیا تو جمہوریت بھی اس کے ساتھ ہو گی پھر کسی قسم کے خدشے کا امکان نہیں رہے گا۔س: یہ بات تو واضح ہے لیکن کچھ چیزیں جو تاریخ میں موجود ہیں؟ج: میں تاریخ دور جانے کی بجائے آپ کو بالکل نزدیک کا حوالہ دیتا ہوں۔ وہاں بروقت انتخاب ہو رہے ہیں کوئی خلاف قانون عمل نہیں ہو رہا۔ کوئی زور اور دھاندلی نہیں ہو رہی۔س: بعض لوگوں کا خیال ہے کہ تحریک کے قیام کا مقصد پاکستان میں ایرانی مفادات کی نگرانی کرنا ہے؟ج: یہ بالکل جھوٹ ہے بلکہ یہ تحریک پر تہمت ہے میں نے ابھی مختصر طور پر تحریک کے قیام کا مقصد بتایا ہے کہ جس میں واضح ہوتا ہے کہ انقلاب ایران سے پہلے بھی تحریک موجود تھی صرف نام تبدیل ہوتے رہتے تھے کبھی اس کا نام تحفظ حقوق شیعہ تھا کبھی مطالبات کمیٹی تھا۔ جب ضیاء الحق نے اسلامی نظام کا شوشہ چھوڑا تو پھر شیعوں نے بھکر میں جمع ہو کر مفتی جعفر حسین کو قائد چنا اور یہ تحریک وجود میں آئی۔ ہم البتہ اسلامی مفاد کی ضروربات کرتے ہیں۔س: کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ تحریک کو ایران کا تعاون حاصل ہے؟ج: کوئی کچھ بھی کہتا رہے اس کی اپنی مرضی ہے ہم جو ایران کی حمایت کرتے ہیں وہ صرف اسلام کے حوالے سے کرتے ہیں۔ پھر یہ بات واضح ہے کہ ایران میں شیعہ انقلاب سے پہلے بھی رہتے تھے اور اب بھی رہتے ہیں لیکن انقلاب سے پہلے وہاں امریکی سامراج اور شہنشاہی نظام تھا۔ ظلم و استبداد کا نظام تھا جس کی ہم بھرپور مخالفت کرتے تھے اور شاہ ایران کے خلاف ہم نے پاکستان میں مظاہرے کیے ہیں۔ آج جب وہاں اسلامی نظام آیا ہے ہم ان کی حمایت کرتے ہیں۔ مسئلہ شیعہ کا نہیں اور نہ ہی ایران کا ہے۔ مسئلہ اسلامی نظام کا ہے۔ جب وہاں اسلامی نظام نہ تھا تو ہم مخالفت کرتے تھے آج وہاں اسلامی نظام ہے تو ہم اس کی حمایت کرتے ہیں بلکہ ہم کہتے ہیں کہ اگر آج افغانستان، مصر، فلپائن اور سعودی عرب میں بھی اسلامی نظام قائم ہو جائے تو ہم ان ممالک کی بھی اس طرح حمایت کریں گے جس طرح ایران کی کرتے ہیں حالانکہ ان ممالک میں اکثریت اہل سنت کی ہے۔ جہاں تک ایرانی امداد کا تعلق ہے یہ سوائے جھوٹ اور الزام کے کچھ نہیں۔ ایران نے ہمارے ساتھ ایک پیسہ کی بھی مدد نہیں کی بلکہ ہم جو بھی کام کرتے ہیں اپنی شیعہ برادری سے چندہ جمع کرکے کرتے ہیں ابھی جو چھ جولائی کو لاہور میں قرآن و سنت کانفرنس منعقد ہوئی تھی اس میں بھی ہم نے اپنے لوگوں سے چندہ جمع کیا تھا جس کا ریکارڈ ہمارے لاہور کے دفتر میں موجود ہے۔ ہم اہلِ تشیع میں اتنی سکت ہے کہ اپنے پروگرام خود کر سکیں۔ ہمیں الحمداللہ ضرورت ہی نہیں کہ ایران سے مدد مانگیں۔ البتہ جو پروگرام ہم اسلام کے حوالے سے کرتے ہیں جس میں ایران بھی مربوط ہو تو بھی ہم اپنے پیسے سے کرتے ہیں۔ یہ عجیب مسئلہ ہے کہ پاکستان میں جو بھی تنظیم خصوصاً اسلام کے حوالے سے سیاست کرے تو خواہ مخواہ اس پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس کو ایران سے رقم ملی ہے حالانکہ ایران خود اس قدر اپنے مسائل میں پھنسا ہوا ہے جنگ میں نہ جانے اس کے کتنے لاکھ ڈالر روزانہ خرچ ہوتے ہیں پھر ان پر اقتصادی پابندی بھی عائد کی گئی ہے اور بھی مسائل ہیں۔ طاغوتی طاقتیں ان کی دشمن ہو چکی ہیں اس طرح وہ یہاں کس طرح مدد کر سکتے ہیں۔ یہ سب جھوٹ اور الزام ہے تاکہ ایران کو اسلامی ممالک میں بدنام کیا جائے کیونکہ دنیا بھر میں جہاں مسلمان آباد ہیں انہیں ایران کے اس انقلاب سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں۔ امریکہ میں مقیم مسلمانوں کی توقعات بھی اس انقلاب سے وابستہ ہیں حتیٰ کہ لاطینی امریکہ میں غیر مسلموں کی توقعات بھی اس انقلاب سے وابستہ ہیں۔ اگر کوئی ان توقعات کے حوالے سے ان کی مدد کرتا ہے تو انقلاب دشمن ان پر الزام لگاتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ جب پاکستان اور بھارت کی جنگ ہوئی تھی تو شیعوں نے بھی زخمیوں کی امداد کے لیے دوائیاں فراہم کی تھیں۔ پاکستان کے غریب علاقہ یعنی بلتستان سے عورتوں نے اپنے زیور بیج کر ایران کے لیے بارہ تیرہ لاکھ روپے کی امداد بھیجی ہے۔ ایران ہم کو نہیں بلکہ ہم ایران کو مدد دے رہے ہیں۔ ہمارے غریب لوگ ان کے زخمیوں کےلیے مدد بھیج رہے ہیں۔س: لاہور میں ۶ جولائی کے کنونشن سے ایک روز قبل ہونے والے دھماکوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ج: ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ قرآن و سنت کانفرنس کو ناکام بنانے کے لیے لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانے کی ایک سازش تھی۔ دھماکے ریلوے سٹیشن اور بس اسٹینڈ پر ہوئے تھے اس لیے کہ باہر سے آنے والے لوگ ڈر جائیں۔س: قرآن و سنت کانفرنس کو کون لوگ ناکام بنانا چاہتے تھے؟ج: اس پر واضح بات تو کوئی نہیں کہی جا سکتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قرآن و سنت کانفرنس کو ناکام بنانے میں حکومت بھی ملوث تھی۔س: کیا یہ دھماکے حکومت نے کرائے تھے؟ج: ہو سکتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ کچھ افراد نے اخبارات میں اشتہارات بھی دئیے تھے چونکہ ہمارے پاس مکمل شواہد نہیں ہیں اس لیے ہم کسی پر واضح الزام نہیں لگا سکتے لیکن یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ قرآن و سنت کانفرنس کو ناکام بنانے کے لیے کچھ لوگوں نے یہ دھماکے کرائے تھے۔س: بہت پہلے ایک اعلیٰ شخصیت نے اہل تشیع کو اقلیت قرار دینے کی خواہش کا اظہار کیا تھا؟ج: اس کا مجھے علم نہیں اور مجھے یہ توقع نہیں کہ ملک کی اعلیٰ شخصیت اس قسم کی خواہش کا اظہار کرے۔س: پاکستان میں امریکی سامراج کے اثرات سے آزادی کس طرح ممکن ہو گی؟ج: آپ کو معلوم ہونا چاہئیے کہ ایران اور فلپائن میں امریکہ کا تسلط پاکستان سے زیادہ تھا۔ اگر ایران اور فلپائن کے عوام کھڑے ہو کر امریکی سامراج کو اپنے ملکوں سے نکال سکتے ہیں تو پاکستان کے مسلمان اگر اس مسئلے کی طرف متوجہ ہو جا ئیں اور امریکہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں تو ان شاء اللہ بہت جلد امریکہ کا جنازہ نکل سکتا ہے۔س: آپ بھی امریکہ کے خلاف ہیں اور بائیں بازو کی جماعتیں بھی امریکی سامراج کی مخالفت کرتی ہیں پھر آپ مذہبی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی بجائے بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ مل کر جدوجہد کیوں نہیں شروع کرتے؟ج: ہم پاکستان میں جس طرح امریکی سامراج کے مخالف ہیں اسی طرح روسی سامراج کے بھی مخالف ہیں۔ ہم پاکستان کے لیے امریکہ اور روس دونوں کو دشمن سمجھتے ہیں اور تاریخ نے یہ بات ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ اور روس کبھی بھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے۔ یہ صرف اپنے مفادات کے لیے کام کرتے ہیں۔ اب یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ جب سے ایران میں اسلامی انقلاب کامیاب ہوا ہے اس کے اثرات دوسرے ممالک میں بھی پھیلنے لگے ہیں تو امریکہ اور روس دونوں کو اس کا احساس ہوا ہے اور یہ بات اخبارات میں آ چکی ہے کہ سابق امریکی صدر نکسن نے گورباچوف ریگن ملاقات سے پہلے کہا تھا کہ امریکہ اور روس کو اپنے اختلافات بھلا کر ایران کے اسلامی انقلاب کا مقابلہ کرنا چاہئیے۔ ہم پاکستان میں یہ بات کرتے ہیں کہ پاکستان کو امریکی تسلط سے آزاد کرانے کے لیے جدوجہد کرنی ہوگی۔ دوسرا یہ کہ روسی سامراج کو امریکہ کی جگہ یہاں مسلط ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہئیے۔ اب بات یہ ہے کہ پاکستان میں کوئی روسی نواز ہے تو کوئی امریکہ نواز۔ وہ بھی طبعی طور پر ہمارے خلاف جدوجہد کریں گے لیکن ہم اپنی جدوجہد کو ان کے لیے نہیں روکیں گے چونکہ پاکستان کے عوام مسلمان ہیں اور جب وہ یہ سمجھ جائیں گے اور ہماری آواز کو سن لیں گے تو وہ اسلام کے نام پر اٹھ کر امریکہ اور روس کی بھرپور مخالفت کریں گے پھر روس نواز یا امریکہ نواز لوگوں کی کوئی حقیقت نہیں رہے گی۔س: پاکستان میں کرسی کی تبدیلی ہمیشہ امریکہ سے ہوتی ہے۔ خواہ وہ مارشل لاء کی تھی یا جمہوریت کی۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ انتقال اقتدار کبھی عوام کی خواہش کے مطابق بھی ہوگا؟ج: ہم اقتدار کی منتقلی کی بات نہیں کرتے ہم نظام کی تبدیلی کی بات کرتے ہیں۔ اگر نظام میں تبدیلی آگئی امریکی سامراجی نظام تبدیل ہو گیا تو امریکہ بھی اس کے پیچھے پیچھے چلا جائے گا۔ اس میں اصل کردار تو عوام ادا کریں گے ۔ البتہ عوام کو رہنمائی کی ضرورت ہے۔س: عوام تو ابھی کسی جدوجہد کے لیے تیار نظر نہیں آتے؟ج: اس لیے کہ انہیں کچھ پتہ نہیں۔ انہیں بتانا ہوگا۔س: بعض لوگوں کا خیال ہے کہ علامہ احسان الٰہی ظہیر کو اہل تشیع نے مروایا ہے؟ج: اس سلسلے میں ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ ہمارا احسان الٰہی ظہیر کے قتل کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے جس طرح دوسرے لوگوں نے مذمت کی تھی ہم نے اس وقت بھی اس واقعہ کی مذمت کی تھی اب بھی ہم مذمت کرتے ہیں بلکہ دوسروں سے زیادہ کرتے ہیں اس لیے کہ مذہبی جلسے میں ایسی کاروائی کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ پاکستان میں سب سےزیادہ مذہبی جلسے اور پروگرام شیعوں کے ہوتے ہیں۔ اس طرح کوئی شیعہ ایسا کام نہیں کر سکتا جس سے سب سے زیادہ نقصان خود اسی کو پہنچنے کا خدشہ ہو۔ یعنی اگر مذہبی جلسوں میں تخریب کاری کا دروازہ کھل گیا تو سب سے زیادہ نقصان اہل تشیع کو ہی ہوگا۔ تیسری بات یہ ہے کہ ہم نے بہت پہلے کہہ دیا تھا شریعت بل کے حوالے سے علامہ احسان الٰہی ظہیر بھی مخالف تھے ہم بھی مخالف تھے۔ اگرچہ وہ اس کی مخالفت اپنے حوالے سے کرتے تھے لیکن وہ بھی مخالف تھے ہم بھی مخالف تھے۔ جب شریعت بل کا مسئلہ زوروں پر تھا ان دنوں میں یہ واقعہ رونما ہوا۔ جب دو آدمی ایک مورچے میں بیٹھے ہوں تو کوئی بھی اپنے ساتھی کو قتل نہیں کرتا۔ خصوصاً جب وہ ایک ہی محاذ پر لڑ رہے ہوں اور اس میں شکست کا خطرہ بھی ہو۔ احسان الٰہی ظہیر کے علاوہ اور بھی بہت سے لوگ ہیں جو شیعوں کے خلاف ہر قسم کی باتیں کرتے ہیں لیکن ہم گالی دینے اور بُرا بھلا کہنے پر یقین نہیں رکھتے۔ قتل کرنا، مارنا پیٹنا ان لوگوں کا کام ہے جن کے پاس دلیل نہ ہو۔ ہم اپنے مذہب کو دلیل و برہان کا مذہب سمجھتے ہیں اور احسان الٰہی ظہیر نے اپنی کتابوں میں کوئی نئی بات نہیں کی تھی ان کے جوابات ہمارے علماء پہلے ہی دے چکے ہیں ان باتوں کے الحمداللہ ہمارے پاس ٹھوس اور دندان شکن جوابات موجود ہیں لیکن یہ کہ اس کے جوابات پہلے ہی دئیے جا چکےہیں۔ ہم نے اور بات کرنا مناسب ہی نہیں سمجھی۔ دوسری بات یہ کہ ہم پاکستان میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کو ملک کے لیے خطرناک اور مضر سمجھتے ہیں۔ صرف یہ کہنا کہ احسان الٰہی ظہیر شیعوں کے خلاف باتیں کرتا تھا یا کتابیں لکھتا تھا تو اس سے بڑھ کر بھی لوگ ہیں۔ ہم نے ان کے خلاف نہ تو کوئی قدم اٹھا یاہے اور نہ ہمارا ایسا کوئی ارادہ ہے۔ بنابرایں احسان الٰہی ظہیر کے قتل کو شیعوں پر ڈالنے کا مقصد یہ ہے کہ اس واقعہ کے اصل ملزموں کو چھپانا ہے۔ ہم اہل حدیث سے مل کر حکومت سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعہ کی تحقیقات میں سستی نہ کی جائے اور ان میں تیزی آنی چاہئیے تاکہ اصلی مجرم سامنے آئیں اور اہل حدیث بھائیوں کی غلط فہمیاں دور ہو جائیں۔س: آپ کی نظر میں اس کے مجرم کون ہو سکتے ہیں؟ج: ہمیں اگر پتہ ہوتا تو ہم بتاتے۔ یہ تو حکومت کو چاہئیے کہ وہ تحقیقات کرے ۔ لیکن حکومت نہیں چاہتی۔ پتہ نہیں کتنے دھماکے ہو گئے۔ دھماکوں کے بعد حکومت نے ہمیشہ یہی کہا کہ ہم عنقریب اصل مجرموں تک پہنچ جائیں گے لیکن کچھ بھی نہیں ہوا اس لیے ہمارے خیال میں حکومت خود نہیں چاہتی کہ اصل مجرموں کو سامنے لایا جائے۔س: بعض لوگوں کا خیال ہے کہ علامہ مرحوم نے عراق میں ایران کے خلاف تقریریں کی تھیں جن کے رد عمل کے طور پر انہیں قتل کیا گیا ہے؟ج: جہاں تک عراق جا کر تقریر کرنے کی بات ہے تو شیعوں میں بھی کچھ نام نہاد افراد ہیں جن کے سر پر عمامے بھی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ احسان الٰہی ظہیر نے عراق میں ایران کے خلاف یا امام خمینی کے خلاف اتنی سخت باتیں نہیں کی تھیں جتنی پاکستان کے ایک نام نہاد شیعہ جس کا نام لینا پسند نہیں کرتا اس نے عراق میں حضرت امام خمینی کے خلاف وہ بکواس کی جسے وہاں کے اخبارات نے خوب اچھالا تھا۔ اب اگر اس کا رد عمل ہوتا تو میرے خیال میں پہلے اس نام نہاد شیعہ کے خلاف بھی ہوتا لیکن اسے کچھ نہیں کہا گیا۔ وہ اب بھی تقریریں کرتا ہے یہ صرف اسلامی ایران کو بدنام کرنے کے لیے امریکی سازش ہے۔س: تحریک نفاذ فقہ جعفریہ موجودہ حکومت سے کن اصولوں پر مفاہمت کر سکتی ہے؟ج: حکومت سے مفاہمت صرف ایک صورت میں ہو سکتی ہے وہ یہ کہ امریکہ کی نوکری سے دستبرداری کا اعلان کرے اور صحیح معنوں میں پاکستان کے عوام کی خواہشات کے سامنے سر تسلیم خم کردے۔س: ایران اور پاکستان کے موجودہ تعلقات کی نوعیت کیا ہے؟ج: پاکستان اور ایران کے عوام کے تاریخی، تہذیبی اور مذہبی روابط بہت گہرے ہیں لیکن پاکستان کی حکومت امریکہ کو چاہتی ہے اور امریکہ چاہتا ہے کہ کسی طریقہ سے ایرانی اسلامی انقلاب کے خلاف استعمال کیا جائے لیکن حکومت کے بیانات کے مطابق اب تک امریکی مطالبات پر مثبت جواب نہیں دیا گیا ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کو اس مسئلے کی نزاکت کا احساس ہے اس لیے وہ کوئی ایسا قدم اٹھانے سے گریزاں ہے اگر خدانخواستہ کبھی ایسا ہو گیا تو اس کے اس حکومت کے لیے بہت برے نتائج سامنے آئیں گے۔ باقی یہ کہ کشیدگی کس حد تک ہے۔ ہو سکتا ہے جزوی طور پر ہوگی مثلاً جس طرح ہمیں پتہ چلا ہے کہ امریکی سوچ والے لوگ کوشش کر رہے ہیں کہ ایران کے خلاف یہاں فضا قائم کی جائے لیکن مجموعی طور پر فضا کشیدہ نہیں ہے۔ ہمیں امید ہے کہ پاکستانی حکومت کبھی خود کو بھی اس حوالے سے امریکی جال میں نہیں پھنسائے گی۔س: پاراچنار میں جو کچھ ہوا اس کے اصل حقائق کیا ہیں؟ج: پاراچنار میں جو کچھ ہوا وہ استعماری سازش ہے۔ دنیا بھر میں سامراج مختلف ناموں پر مسلمانوں کو آپس میں لڑایا جاتا ہے اس زنجیر کی ایک کڑی پارا چنار کے واقعات ہیں۔ یہ واقعات شیعہ سنی فساد نہیں تھے اور نہ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اس علاقہ میں جو شیعہ سنی لوگ رہتے ہیں وہ مل کر حملہ کرنے والوں کا مقابلہ کرتے رہے ہیں۔ پھر شیعوں کے ساتھ سنیوں نے بھی جانیں قربان کی ہیں۔ دوسری بات یہ کہ بعض مقامات پر کچھ لوگوں نے شیعہ کی آبادیوں کے لوگوں کو تحفظ فراہم کیا ہے۔ اگر یہ مسئلہ شیعہ سنی کا ہوتا تو پھر ایک دوسرے کو تحفظ دینے کا کیا مطلب تھا۔ کچھ شرپسند افراد نےیہ جنگ شروع کی تھی اور وہاں کی انتظامیہ بھی ملوث تھی جبکہ افغان مہاجران کو بھی اس میں ملوث کر دیا گیا۔س: وہ حملے افغان مہاجرین کی طرف سے نہیں تھے۔ج: نہیں! جب وہ لوگ ملوث ہوئے تو انہوں نے باقاعدہ جنگ میں حصہ لیا۔ مثلاً خرلاچی محاذ پر جو افغانستان کے ساتھ ہے وہاں باقاعدہ ان لوگوں نے حملے کیے۔ کئی اور علاقوں پر بھی اسی طرح کیا گیا۔ صدہ محاذ پر بھی وہ لوگ مقامی لوگوں کے ساتھ تھے۔س: فقہ جعفریہ کے تحت عورت کی قیادت جائز ہے یا نہیں؟ج: میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں جمہوریت قائم ہونی چاہئیے۔پھر جمہوریت کے تحت جب انتخابات ہو جائیں تو جو پارٹی بھی جیتے اس پارٹی کے لیڈر خواہ عورت ہو یا مرد اسے برسراقتدار آنے کا حق حاصل ہے۔س: میں نے فقہ جعفریہ کے حوالے سے بات کی تھی؟ج: آپ اس وقت جمہوریت قائم ہونے دیں۔ جمہوریت کے قیام کے بعد جب صحیح طور پر انتخابات ہوں گے جو پارٹی جیتے گی اس پارٹی کا صدر یا جو بھی ہو خواہ عورت یا مرد وہ ملک کا سربراہ ہوگا۔س: بھٹو کی موت کے پاکستان کی سیاست پر کیا اثرات نمایاں ہوئے۔ج: بھٹو کی پھانسی کے حوالے سے یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ عدلیہ کس حد تک بااختیار تھی اور انہوں نے جو فیصلہ کیا وہ انصاف کے مطابق تھا یا کسی دباؤ کے تحت فیصلہ دیا۔ یہ بات واضح ہے ہر مسئلہ جو بھی ہوتا تھا مارشل لاء کے تحت ہوتا تھا۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ان کے کیا اثرات مرتب ہو گئے ہیں۔ اس کے بارے عوام سے رابطہ کرنے اور سیاسی پارٹیوں کے عوام سے رابطہ کے بعد ہی صحیح پتہ چل سکے گا اور بیرونی ممالک سے ہمارے تعلقات سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ میں خود اس پوزیشن میں نہیں کہ اس ملک کے اندر کے اثرات پر تفصیل سے بات چیت کر سکوں۔س: ابھی نواب زادہ نصراللہ نے کہا تھا کہ سندھیوں نے پنجابیوں سے بھٹو کی پھانسی کا بدلہ لینا شروع کر دیا ہے؟ج: یہ بات تو اس وقت واضح ہو سکتی ہے جب تک سندھیوں سے جا کر خود بات نہ کی جائے تو پھر اس حوالے سے پتہ چل جائے گا البتہ اثرات یقیناً ہوئے ہیں۔ کیا اثرات ہوئے ہیں میں ان کے بارے ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا۔س: آپ کی بے نظیر سے کبھی ملاقات ہوئی ہے؟ج: جی نہیںس: کیا اس کے آئندہ امکانات ہیں؟ج: یہ بات قبل از وقت ہے اگر ضرورت ہوئی۔